گئی گزی بات
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - بیتی ہوئی بات، بھولی بسری بات، پرانی بات۔ "اب کیا کریدہے گئی گزری باتوں کی۔" ( ١٩٨٨ء، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، ١٦٢ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ مرکب وصفی 'گئ گزری' بطور صفت کے ساتھ سنسکرت سے اردو میں ماخوذ 'بات' بطور موصوف ملانے سے مرکبِ توصیفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٨١٨ء کو "کلیاتِ انشا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بیتی ہوئی بات، بھولی بسری بات، پرانی بات۔ "اب کیا کریدہے گئی گزری باتوں کی۔" ( ١٩٨٨ء، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، ١٦٢ )
جنس: مؤنث